بھٹکل:23/اگست(ایس او نیوز)ضلع کے موگیر طبقہ کے متعلق کچھ خود ساختہ دلت لیڈران جھوٹی افواہیں پھیلاکر عدالت کےفیصلے کو انکار کرنے کی حد تک پہنچ گئے ہیں اس بات کا الزام بھٹکل تعلقہ موگیر سماج کے صدر کے ایم کرکی نے لگایا ہے۔
منگل کوایک نجی ہوٹل میں بلائی گئی موگیر سماج کی پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ 1977میں موگیر سماج کو پسماندہ طبقہ کی فہرست سے نکال کر پسماندہ ذات میں شامل کرتے ہوئے صدر ہند کی جانب سے تصدیق ہوئی ہے۔ ملکی دستور کی دفعہ 341(2)کے تحت ایک مرتبہ ایک ذات والوں کو پسماندہ ذات کے طورپر شمار کرتے ہوئے صدر ہند منظور کرتے ہیں تو پارلیمنٹ کے علاوہ کسی بھی حکومت ہو یا کمیشن کو انہیں پسماندہ ذات کی فہرست سے نکالنے کا اختیار نہیں ہے ۔ اسی طرح ریاستی ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ انہیں پسماندہ ذات کی سند عطاکریں لیکن حکومت ابھی تک کوئی اقدام نہیں کرنے کی وجہ سے اترکنڑا ضلع کےموگیر سنگھ نے حکومت کے خلاف عدالتی ہتک کی عرضی داخل کی ہے۔ ریاستی حکومت متعلقہ عرضی پر رٹ داخل کی تو سپریم کورٹ نے ہتک عدالت کی عرضی پر سنوائی کے بعد اسٹے لگانےکا حکم جاری کیا ہے۔ لیکن کچھ مفاد پرست قوتیں غلط افواہ پھیلا رہے ہیں کہ عدالت نے موگیروں کو سند دینے سے روک لگائی ہے، اس طرح کی افواہ پھیلانا عدالت کی توہین ہے۔ مسٹر کرکی نے بتایا کہ حال ہی میں کاروار میں منعقدہ کے ڈی پی میٹنگ میں عوامی نمائندوں نے سماج کلیان افسر کو اپنے حدود میں رہتے ہوئے کام کرنےکا مشور ہ دیا ہے، ان پر کسی طرح کا کوئی دباؤ یا اپنے اختیار ات کا غلط استعمال نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میٹنگ میں جوکچھ ہواہے اس کو مسخ کرکے میڈیاکو غلط باتیں بتائی جارہی ہیں، جس کی مذمت کرنا ضروری ہے
پریس کانفرنس میں شری لکشمی سرسوتی سہکار سنگھا کے صدر بھاسکر موگیر، جٹگاموگیر، پنڈلک ہیبلے موجود تھے۔